بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: موت پر بیعت کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: بیعت کے احکام و مسائل باب: موت پر بیعت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 4164 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ:" عَلَى الْمَوْتِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے کہا: حدیبیہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آپ لوگوں نے کس چیز پر بیعت کی؟ انہوں نے کہا: موت پر ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجہاد 110 (2960)، المغازي 35 (4169)، الأحکام 43 (7206)، 44 (7208)، صحیح مسلم/الإمارة 18 (1860)، سنن الترمذی/السیر 34 (1592)، (تحفة الأشراف: 4536)، مسند احمد (4/47، 51، 54) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: موت کسی کے اختیار میں نہیں ہے، اس لیے موت پر بیعت کرنے کا مطلب میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر بیعت ہے، ہاں میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر کبھی موت بھی ہو سکتی ہے، اسی لیے بعض لوگوں نے کہا کہ موت پر بیعت کی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح