بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر بیعت کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: بیعت کے احکام و مسائل باب: ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر بیعت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 4161 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، سُفْيَانُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، جَرِيرٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ:" بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الإیمان 42 (58)، مواقیت الصلاة 3 (524)، الزکاة 2 (1401)، البیوع 68 (2157)، الشروط 1 (2714)، الأحکام 43 (7204)، صحیح مسلم/الإیمان 23 (56)، (تحفة الأشراف: 3210)، مسند احمد (4/357، 361) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: نصیحت کے معنی ہیں: خیر خواہی، کسی کا بھلا چاہنا، یوں تو اسلام کی طبیعت و مزاج میں ہر مسلمان بھائی کے ساتھ خیر خواہی و بھلائی داخل ہے، مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی کسی خاص بات پر بھی خصوصی بیعت لیا کرتے تھے، اسی طرح آپ کے بعد بھی کوئی مسلم حکمراں کسی مسلمان سے کسی خاص بات پر بیعت کر سکتا ہے، مقصود اس بات کی بوقت ضرورت و اہمیت اجاگر کرنی ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4162 سنن نسائی
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، يُونُسَ ، عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، جَرِيرٌ
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ جَرِيرٌ:" بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَأَنْ أَنْصَحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی سمع و طاعت (بات سننے اور اس پر عمل کرنے) پر اور اس بات پر کہ میں ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کروں گا۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأدب 67 (4945)، (تحفة الأشراف: 3239)، مسند احمد (4/364) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح