بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نذر کسی (مقدر) چیز کو آگے اور پیچھے نہیں کرتی ہے۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل باب: نذر کسی (مقدر) چیز کو آگے اور پیچھے نہیں کرتی ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3834 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّذْرُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ , إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نذر نہ کسی (مقدر) چیز کو آگے کرتی ہے نہ پیچھے، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3834]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3832 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3835 سنن نسائی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبُو الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ , وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ اسْتُخْرِجَ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لا سکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13723)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان 26 (6692)، صحیح مسلم/ال نذر (1640)، سنن ابی داود/الأیمان 21 (3288)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 15(2123)، مسند احمد 2/242) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ حدیث قدسی ہے اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صراحۃً اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا ہے، لیکن سیاق سے بالکل واضح ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح