بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جب کوئی قسم کھائے کہ وہ سالن نہیں کھائے گا پھر اس نے سرکہ سے روٹی کھا لی تو اس کا کیا حکم ہے؟
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل باب: جب کوئی قسم کھائے کہ وہ سالن نہیں کھائے گا پھر اس نے سرکہ سے روٹی کھا لی تو اس کا کیا حکم ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3827 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَهُ , فَإِذَا فِلَقٌ وَخَلٌّ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلْ فَنِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ، سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3827]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 30 (2052)، سنن ابی داود/الأطعمة 40 (3821)، (تحفة الأشراف: 2338)، مسند احمد (3/301، 400) سنن الدارمی/الأطعمة 18 (2092) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس لیے سالن نہ کھانے کی قسم کھانے والا اگر سرکہ کھا لے تو وہ قسم توڑنے والا مانا جائے گا، اور اسے قسم کا کفارہ دینا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح