إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ , وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى , فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ , وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور آدمی کو اسی کا ثواب ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو، تو جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہو گی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3825]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 75 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: چونکہ قسم بھی ایک عمل ہے، اس لیے حدیث «إنما الأعمال بالنية» کے مطابق قسم میں بھی نیت معتبر ہو گی۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح