بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کیا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: وصیت کے احکام و مسائل باب: کیا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 3650 سنن نسائی
إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، طَلْحَةُ ، أَبِي أَوْفَى
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: كَيْفَ كَتَبَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةَ؟ قَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وصیت کی تھی؟ کہا: نہیں ۱؎، میں نے کہا: پھر مسلمانوں پر وصیت کیسے فرض کر دی؟ کہا: آپ نے اللہ کی کتاب سے وصیت کو ضروری قرار دیا ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوصایا 1 (2740)، المغازي 83 (4460)، فضائل القرآن 18 (5022)، صحیح مسلم/الوصایا 5 (1634)، سنن الترمذی/الوصایا 4 (2119)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 1 (2696)، (تحفة الأشراف: 5170)، مسند احمد (4/354، 355، 381)، سنن الدارمی/الوصیة 3 (3224) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی دنیا کے متعلق کوئی وصیت نہیں کی کیونکہ آپ نے ایسا کوئی مال چھوڑا ہی نہیں تھا جس میں وصیت کرنے کی ضرورت پیش آتی، رہی مطلق وصیت تو آپ نے کئی باتوں کی وصیت فرمائی ہے۔ ۲؎: اشارہ ہے آیت کریمہ: «كتب عليكم إذا حضر أحدكم الموت إن ترك خيرا الوصية للوالدين والأقربين بالمعروف حقا على المتقي» کی طرف، یعنی اس آیت کی بنا پر آپ نے وصیت کو فرض قرار دیا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3651 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، مُفَضَّلٌ ، الْأَعْمَشِ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا شَاةً، وَلَا بَعِيرًا، وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (موت کے وقت) نہ دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الوصایا 6 (1635)، سنن ابی داود/الوصایا 1 (2863)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 1 (2695)، (تحفة الأشراف: 17610)، مسند احمد (6/44)، ویأتي فیما یلي (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3652 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، مُصْعَبٌ ، دَاوُدُ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْهَمًا، وَلَا دِينَارًا، وَلَا شَاةً، وَلَا بَعِيرًا، وَمَا أَوْصَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہ دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انطر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3653 سنن نسائی
جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهُذَيْلِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ ، حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهُذَيْلِ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْهَمًا، وَلَا دِينَارًا، وَلَا شَاةً، وَلَا بَعِيرًا، وَلَا أَوْصَى"، لَمْ يَذْكُرْ جَعْفَرٌ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہ درہم چھوڑا، نہ دینار، نہ بکری چھوڑی اور نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔ (اس روایت کے دونوں راویوں میں سے ایک راوی جعفر بن محمد بن ہذیل نے اپنی روایت میں دینار اور درہم کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15967) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3654 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، أَزْهَرُ ، ابْنُ عَوْنٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَقَدْ دَعَا بِالطَّسْتِ لِيَبُولَ فِيهَا، فَانْخَنَثَتْ نَفْسُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَشْعُرُ، فَإِلَى مَنْ أَوْصَى؟".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی (اس وقت آپ کی حالت اتنی خراب تھی کہ) آپ نے پیشاب کرنے کے لیے طشت منگوایا کہ اتنے میں آپ کے اعضاء ڈھیلے پڑ گئے (روح پرواز کر گئی) اور میں نہ جان سکی تو آپ نے کس کو وصیت کی؟ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 33 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روح پرواز کر گئی، اس وقت تک میں وہاں موجود تھی پھر آخر کون ہے جسے وصی بنایا گیا؟ البتہ یہ ممکن ہے کہ آپ نے کتاب و سنت سے متعلق وصیت انتقال سے کچھ روز پہلے کی ہو اور یہ وصیت کسی کے ساتھ خاص نہیں ہو سکتی بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3655 سنن نسائی
أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَارِمٌ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ابْنِ عَوْنٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ غَيْرِي، قَالَتْ: وَدَعَا بِالطَّسْتِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتقال کے وقت میرے سوا آپ کے پاس کوئی اور نہ تھا اس وقت آپ نے (پیشاب کے لیے) طشت منگا رکھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 33 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح