بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: شوہر کا میلان کسی ایک بیوی کی طرف زیادہ ہونے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: عورتوں کے ساتھ معاشرت (یعنی مل جل کر زندگی گزارنے) کے احکام و مسائل باب: شوہر کا میلان کسی ایک بیوی کی طرف زیادہ ہونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3394 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ لِإِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى , جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَدُ شِقَّيْهِ مَائِلٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کے مقابلے دوسری طرف زیادہ میلان رکھے تو قیامت کے دن وہ اس طرح آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3394]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/النکاح 39 (2133)، سنن الترمذی/النکاح 41 (1141)، سنن ابن ماجہ/النکاح 47 (1969)، (تحفة الأشراف: 12213)، مسند احمد (2/295، 347، 471)، سنن الدارمی/النکاح 24 (2252) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2133) ترمذي (1141) ابن ماجه (1969) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 346
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3395 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ، ثُمَّ يَعْدِلُ، ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ , فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ". أَرْسَلَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان کچھ تقسیم کرتے تو برابر برابر کرتے، پھر فرماتے: اللہ! میرا یہ کام تو میرے دائرہ اختیار میں ہے، لہٰذا تو مجھے ملامت نہ کر ایسے کام کے سلسلے میں جو تیرے اختیار کا ہے اور مجھے اس میں کوئی اختیار نہیں۔ حماد بن زید نے یہ حدیث مرسل روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/النکاح 39 (2134)، سنن الترمذی/النکاح 41 (1140)، سنن ابن ماجہ/النکاح 47 (1971)، (تحفة الأشراف: 16290)، مسند احمد (6/144)، سنن الدارمی/النکاح 25 (2253) (ضعیف) (پہلا جملہ حسن ہے، تراجع الالبانی 346)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: ضعيف