بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: دولہا کو ہدیہ و تحفہ دینے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل باب: دولہا کو ہدیہ و تحفہ دینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3389 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، جَعْفَرٌ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ، قَالَ: وَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا، قَالَ: فَذَهَبَتْ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَتَقُولُ لَكَ: إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ، قَالَ:" ضَعْهُ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ، فَادْعُ فُلَانًا وَفُلَانًا"، وَمَنْ لَقِيتَ، وَسَمَّى رِجَالًا، فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى، وَمَنْ لَقِيتُهُ، قُلْتُ لِأَنَسٍ: عِدَّةُ كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: يَعْنِي زُهَاءَ ثَلَاثَ مِائَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ، فَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ، وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ، قَالَ لِي: يَا أَنَسُ، ارْفَعْ، فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ رَفَعْتُ، كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ وَضَعْتُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی کے پاس گئے اور میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حیس بنایا، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ سے عرض کیا: میری والدہ ماجدہ آپ کو سلام پیش کرتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا تحفہ ہے، آپ نے فرمایا: اسے رکھ دو اور جاؤ فلاں فلاں کو بلا لاؤ، آپ نے ان کے نام لیے اور (راستے میں) جو بھی ملے اسے بھی بلا لو۔ راوی جعد کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ لوگ کتنے رہے ہوں گے؟ کہا: تقریباً تین سو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دس آدمیوں کا حلقہ (دائرہ) بنا کر کھاؤ، اور ہر شخص اپنے قریب (یعنی سامنے) سے کھائے، تو ان لوگوں نے (ایسے ہی کر کے) کھایا اور سب آسودہ ہو گئے، (دس آدمیوں کی) ایک جماعت کھا کر نکلی تو (دس آدمیوں کی) دوسری جماعت آئی (اور اس نے کھایا اور وہ آسودہ ہوئی، اس طرح لوگ آتے گئے اور پیٹ بھر کر کھاتے اور نکلتے گئے، جب سب کھا چکے تو) مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انس! اٹھا لو (وہ کھانا جو لائے تھے) تو میں نے اٹھا لیا۔ مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ جب میں نے لا کر رکھا تھا تب زیادہ تھا یا جب اٹھایا تب (زیادہ تھا)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/النکاح 64 (5163) تعلیقًامطولا، صحیح مسلم/النکاح 15 (1428)، سنن الترمذی/تفسیرسورة الأحزاب 34 (3218)، (تحفة الأشراف: 513)، مسند احمد (3/163) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: حیس یعنی مالیدہ، حیس گھی، پنیر اور کھجور سے بنایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3390 سنن نسائی
أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ ، سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ:" آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ، فَآخَى بَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: إِنَّ لِي مَالًا، فَهُوَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ شَطْرَانِ، وَلِي امْرَأَتَانِ، فَانْظُرْ أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ فَأَنَا أُطَلِّقُهَا، فَإِذَا حَلَّتْ فَتَزَوَّجْهَا، قَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي أَيْ عَلَى السُّوقِ، فَلَمْ يَرْجِعْ حَتَّى رَجَعَ بِسَمْنٍ، وَأَقِطٍ قَدْ أَفْضَلَهُ، قَالَ: وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ:" مَهْيَمْ؟" فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" أَوْلِمْ، وَلَوْ بِشَاةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قریش اور انصار کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارہ قائم کر دیا، تو سعد بن ربیع اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا۔ سعد (انصاری) رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے پاس مال ہے اس کا آدھا تمہارا ہے اور آدھا میرا اور میری دو بیویاں ہیں تو دیکھو ان میں سے جو تمہیں زیادہ اچھی لگے اسے میں طلاق دے دیتا ہوں، جب وہ عدت گزار کر پاک و صاف ہو جائے تو تم اس سے شادی کر لو۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: اللہ تمہاری بیویوں اور تمہارے مال میں تمہیں برکت عطا کرے۔ مجھے تو تم بازار کی راہ دکھا دو، (پھر وہ بازار گئے) اور گھی اور پنیر نفع میں کما کر لائے بغیر نہ لوٹے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ پر زردی کا نشان دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں نے ایک انصاری لڑکی سے شادی کی ہے تو آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا سہی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3376 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح