عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاق ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، قُرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ ، وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" دَخَلْتُ عَلَى قُرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ، وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، فِي عُرْسٍ وَإِذَا جَوَارٍ يُغَنِّينَ، فَقُلْتُ: أَنْتُمَا صَاحِبَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، يُفْعَلُ هَذَا عِنْدَكُمْ؟ فَقَالَ: اجْلِسْ إِنْ شِئْتَ، فَاسْمَعْ مَعَنَا، وَإِنْ شِئْتَ اذْهَبْ، قَدْ" رُخِّصَ لَنَا فِي اللَّهْوِ عِنْدَ الْعُرْسِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عامر بن سعد ابی وقاص کہتے ہیں کہ میں ایک شادی میں قرظہ بن کعب اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا، اتفاق سے وہاں لڑکیاں گا رہی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: آپ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہیں اور بدری بھی ہیں، آپ کے سامنے یہ سب کیا جا رہا ہے (اور آپ لوگ روکتے نہیں ہیں)؟ انہوں نے (جواب میں) کہا: آپ چاہیں تو بیٹھیں جیسے ہم سن رہے ہیں آپ بھی سنیں اور چاہیں تو یہاں سے ڈول جائیں، شادی کے موقع پر ہمیں گانے بجانے کی اجازت دی گئی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9993) (حسن)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ شادی خوشی کا موقع ہے اور گانا اگر حرام چیزوں سے خالی ہو تو منع نہیں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن