يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، صَالِحُ بْنُ صَالِحٍ ، عَامِرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِي مُوسَى
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ، فَأَدَّبَهَا، فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا وَعَلَّمَهَا، فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، وَعَبْدٌ يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، وَمُؤْمِنُ أَهْلِ الْكِتَابِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ایسے ہیں جنہیں دوہرا اجر و ثواب ملے گا ۱؎، ایک وہ آدمی جس کے پاس لونڈی تھی اس نے اسے ادب و تمیز سکھائی اور بہترین طور و طریقہ بتایا، اسے تعلیم دی اور اچھی تعلیم دی پھر اسے آزاد کر دیا، اور اس سے شادی کر لی۔ دوسرا وہ غلام جو اپنے آقاؤں کا صحیح صحیح حق الخدمت ادا کرے، اور تیسرا وہ جو اہل کتاب میں سے ہو اور ایمان لے آئے“ (ایسے لوگوں کو دوگنا ثواب ملے گا)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/العلم 31 (97)، العتق 14 (2544)، 16 (2547)، الجہاد 145 (3011)، أحادیث الأنبیاء 47 (3446)، والنکاح 13 (5083)، صحیح مسلم/الإیمان 70 (154)، سنن ابی داود/النکاح 6 (2053)، سنن الترمذی/النکاح 25 (1116)، سنن ابن ماجہ/النکاح 42 (1956)، مسند احمد 4/395، 398، 402، 405، 414، 415)، سنن الدارمی/النکاح 46 (2290) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ان کی زندگی کے ہر عمل کا انہیں دوہرا اجر ملے گا یا ان حالات میں جو بھی عمل ان سے صادر ہو گا اس کا انہیں دوہرا اجر ملے گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح