بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رضاعت سے کون کون سے رشتے حرام ہوتے ہیں۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل باب: رضاعت سے کون کون سے رشتے حرام ہوتے ہیں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 3302 سنن نسائی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى ، مَالِكٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا حَرَّمَتْهُ الْوِلَادَةُ حَرَّمَهُ الرَّضَاعُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو رشتے (ماں کے پیٹ سے) پیدا ہونے سے حرام ہوتے ہیں وہی رشتے (عورت کا) دودھ پینے سے بھی حرام ہوتے ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/النکاح 7 (2055)، سنن الترمذی/الرضاع 1 (1147)، (تحفة الأشراف: 16344)، موطا امام مالک/الرضاع 3 (15)، مسند احمد (6/44، 51، 66، 66، 72، 102)، سنن الدارمی/النکاح 48 (2295) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی نکاح کے حرام ہونے میں رضاعت اور ولادت کا ایک ہی حکم ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3303 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عِرَاكٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ عَمَّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ يُسَمَّى أَفْلَحَ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَحَجَبَتْهُ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا تَحْتَجِبِي مِنْهُ، فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے رضاعی چچا افلح نے ان کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے ان سے پردہ کیا، اس کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (عائشہ سے) فرمایا: ان سے پردہ مت کرو، کیونکہ نسب سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں، وہی رشتے رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الشہادات 7 (2644)، تفسیرسورة السجدة 9 (4796)، النکاح 22 (5103)، 117 (5239)، الأدب 93 (6156)، صحیح مسلم/الرضاع 2 (1445)، موطا امام مالک/الرضاع 1 (1)، مسند احمد (6/217)، ویأتي عند المؤلف 3320 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ جب حقیقی چچا سے پردہ نہیں ہے تو رضاعی چچا سے بھی پردہ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3304 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى ، مَالِكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الرضاع 1 (1444)، (تحفة الأشراف: 17902)، موطا امام مالک/الرضاع 1 (1) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3305 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَبِيهِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17955) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی نسلی حقیقی رشتے سے جو لوگ حرام ہوتے ہیں وہی لوگ رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح