قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عِرَاكٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ عَمَّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ يُسَمَّى أَفْلَحَ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَحَجَبَتْهُ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا تَحْتَجِبِي مِنْهُ، فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے رضاعی چچا افلح نے ان کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے ان سے پردہ کیا، اس کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (عائشہ سے) فرمایا: ”ان سے پردہ مت کرو، کیونکہ نسب سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں، وہی رشتے رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الشہادات 7 (2644)، تفسیرسورة السجدة 9 (4796)، النکاح 22 (5103)، 117 (5239)، الأدب 93 (6156)، صحیح مسلم/الرضاع 2 (1445)، موطا امام مالک/الرضاع 1 (1)، مسند احمد (6/217)، ویأتي عند المؤلف 3320 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ جب حقیقی چچا سے پردہ نہیں ہے تو رضاعی چچا سے بھی پردہ نہیں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح