بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: باپ بیوہ کی شادی اس کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دے تو کیا حکم ہے؟
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل باب: باپ بیوہ کی شادی اس کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دے تو کیا حکم ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3270 سنن نسائی
هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مَعْنٌ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، مَالِكٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُجَمِّعِ ، خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعِ ابني يزيد ابن جارية الأنصاري، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ، أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَرَدَّ نِكَاحَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
خنساء بنت خذام رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا اور یہ بیوہ تھیں، یہ شادی انہیں پسند نہ آئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں، تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/النکاح 42 (5138)، الإکراہ (6940)، الحیل 11 (6969)، سنن ابی داود/النکاح 26 (2101)، سنن ابن ماجہ/النکاح 12 (1873)، (تحفة الأشراف: 15824)، موطا امام مالک/النکاح11 (5139)، مسند احمد (6/328)، سنن الدارمی/النکاح 14 (2238) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح