بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کنواری لڑکی کی شادی کے لیے اس سے اجازت لینے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل باب: کنواری لڑکی کی شادی کے لیے اس سے اجازت لینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 3262 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ عورت اپنے ولی (سر پرست) کے بالمقابل اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے ۱؎ اور کنواری (لڑکی) سے اس کی شادی کی اجازت لی جائے گی۔ اور اس کی اجازت (اس سے پوچھے جانے پر) اس کا خاموش رہنا ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/النکاح 9 (4121)، سنن ابی داود/النکاح 26 (2098، 2099، 2110)، سنن الترمذی/النکاح 18 (1108)، سنن ابن ماجہ/النکاح 11 (1870)، (تحفة الأشراف: 6517)، موطا امام مالک/النکاح 2 (4)، مسند احمد (1/241، 261، 274، 334، 345، 355، 362)، سنن الدارمی/النکاح 13، (2234، 2235، 2236) وانظرالأرقام التالیة (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «أَحَقُّ» کا صیغہ مشارکت کا متقاضی ہے، گویا «ایم» (بیوہ) اپنے نکاح کے سلسلہ میں جس طرح حقدار ہے اسی طرح اس کا ولی بھی حقدار ہے، یہ اور بات ہے کہ ولی کی بنسبت اسے زیادہ حق حاصل ہے کیونکہ ولی کی وجہ سے اس پر جبر نہیں کیا جا سکتا جب کہ اس کی وجہ سے ولی پر جبر کیا جا سکتا ہے چنانچہ ولی اگر شادی سے ناخوش ہے اور اس کا منکر ہے تو بواسطہ قاضی اس کا نکاح ہو گا، اس توضیح سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ یہ حدیث «لا نكاح إلا بولي» کے منافی نہیں ہے۔ ۲؎: لیکن اگر منظور نہ ہو تو کھل کر بتا دینا چاہیئے کہ مجھے یہ رشتہ پسند نہیں ہے تاکہ ماں باپ اس کے لیے دوسرا رشتہ منتخب کریں یا اسے مطمئن کریں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3263 سنن نسائی
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَعْدَ مَوْتِ نَافِعٍ بِسَنَةٍ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ حَلْقَةٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی (سر پرست) کے بالمقابل اپنے (رشتہ کے) بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے۔ اور «یتیمہ» یعنی کنواری لڑکی سے (اس کی شادی کے لیے) اس کی منظوری لی جائے گی اور اس کی منظوری (پوچھے جانے پر) اس کی خاموشی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3262 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح م وهو أصح من اللفظ الأول تستأذن
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح م وهو أصح من اللفظ الأول تستأذن
حدیث نمبر: 3264 سنن نسائی
أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ ، يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاق ، صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْأَيِّمُ أَوْلَى بِأَمْرِهَا، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ عورت اپنے نفس کی خود مالک ہے۔ (شادی کرے گی) اور «یتیمہ» یعنی کنواری لڑکی سے (اس کی شادی کے لیے) اس کی منظوری لی جائے گی اور اس کی منظوری (پوچھے جانے پر) اس کی خاموشی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3262 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3265 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، فَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ (غیر کنواری) عورت پر ولی کا کچھ اختیار نہیں ہے، اور «یتیمہ» کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مشورہ (و اجازت) لی جائے گی، اور (جواباً) اس کی خاموشی اس کی اجازت مانی جائے گی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3262 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح