بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بانجھ عورت سے شادی کرنے کی کراہت کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل باب: بانجھ عورت سے شادی کرنے کی کراہت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3229 سنن نسائی
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ، وَمَنْصِبٍ إِلَّا أَنَّهَا لَا تَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَنَهَاهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَنَهَاهُ، فَقَالَ:" تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ، الْوَدُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معقل بن یسار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ مجھے ایک عورت ملی ہے جو حسب اور مرتبہ والی ہے لیکن اس سے بچے نہیں ہوتے ۱؎، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ نے اسے (اس سے شادی کرنے سے) منع فرما دیا۔ پھر دوبارہ آپ کے پاس پوچھنے آیا تو آپ نے پھر اسے روکا۔ پھر تیسری مرتبہ پوچھنے آیا، پھر بھی آپ نے منع کیا، پھر آپ نے فرمایا: زیادہ بچے جننے والی، اور زیادہ محبت کرنے والی عورت سے شادی کرو ۲؎ کیونکہ میں تمہارے ذریعہ کثرت تعداد میں (دیگر اقوام پر) غالب آنا چاہتا ہوں ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/النکاح 4 (2050)، (تحفة الأشراف: 11477) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: انہیں اس کا علم بایں طور ہوا ہو گا کہ اسے یا تو حیض نہیں آتا تھا یا جس شوہر کے پاس تھی وہاں اس سے کوئی بچہ ہی پیدا نہیں ہوا۔ ۲؎: زیادہ بچہ جننے والی اور شوہر سے زیادہ محبت کرنے والی عورت کا اندازہ اس کی ماں، اور ماں کی ماں کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ اور یہ چیز جانوروں میں بھی دیکھی جاتی ہے۔ ۳؎: یعنی قیامت کے دن تعداد امت میں دیگر انبیاء سے بڑھ جانا چاہتا ہوں۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن صحيح