بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کیا چیز دیکھ کر عورت سے نکاح کیا جائے؟
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل باب: کیا چیز دیکھ کر عورت سے نکاح کیا جائے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3228 سنن نسائی
إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ" , قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ , قَالَ:" فَذَاكَ إِذًا إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا، وَمَالِهَا، وَجَمَالِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی پھر ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ملاقات ہو گئی تو آپ نے پوچھا: جابر! کیا تم نے شادی کی ہے؟ جابر کہتے ہیں کہ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: کنواری سے یا بیوہ سے؟ ۱؎ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: کنواری سے کیوں نہ کی؟ جو تجھے (جوانی کے) کھیل کھلاتی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری چند بہنیں میرے ساتھ ہیں، مجھے (کنواری نکاح کر کے لانے میں) خوف ہوا کہ وہ کہیں میری اور ان کی محبت میں رکاوٹ (اور دوری کا باعث) نہ بن جائے۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تم نے ٹھیک کیا، عورت سے شادی اس کا دین دیکھ کر، اس کا مال دیکھ کر اور اس کی خوبصورتی دیکھ کر کی جاتی ہے۔ تو تم کو دیندار عورت کو ترجیح دینی چاہیئے۔ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الرضاع 15 (715)، سنن ابن ماجہ/النکاح 7 (1860)، (تحفة الأشراف: 2436)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 4 (1086)، مسند احمد (3/302)، سنن الدارمی/النکاح 32 (2217) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی جس کا نکاح پہلے کسی سے ہو چکا تھا پھر اس کی طلاق ہو گئی یا شوہر کا انتقال ہو گیا ہو۔ ۲؎: یعنی اگر ایسا نہ کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح