بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3189 سنن نسائی
بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، أَبِي مَسْعُودٍ
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا تَصَدَّقَ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيَأْتِيَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسَبْعِ مِائَةِ نَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابومسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مہار والی ایک اونٹنی اللہ کے راستے میں صدقہ میں دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن (اس ایک اونٹنی کے بدلہ میں) سات سو مہار والی اونٹنیوں کے (ثواب) کے ساتھ آئے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإمارة 37 (1892)، (تحفة الأشراف: 9987)، مسند احمد (4/221 و5/274) (حسن)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3190 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرٍ ، خَالِدٍ ، أَبِي بَحْرِيَّةَ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" الْغَزْوُ غَزْوَانِ: فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ، وَأَطَاعَ الْإِمَامَ، وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ، وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ، كَانَ نَوْمُهُ وَنُبْهُهُ أَجْرًا كُلُّهُ، وَأَمَّا مَنْ غَزَا رِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الْإِمَامَ، وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ، فَإِنَّهُ لَا يَرْجِعُ بِالْكَفَافِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جہاد دو طرح کے ہیں: ایک جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا اللہ کی رضا و خوشنودی کا طالب ہو، امام (سردار) کی اطاعت کرے، اپنی پسندیدہ چیز اللہ کے راستے میں خرچ کرے، اپنے شریک کو سہولت پہنچائے، اور فساد سے بچے تو اس کا سونا، و جاگنا سب کچھ باعث اجر ہو گا۔ دوسرا جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا ریاکاری اور شہرت کے لیے جہاد کرے، امیر (سردار و سپہ سالار) کی نافرمانی کرے اور زمین میں فساد پھیلائے تو وہ برابر سرابر نہیں لوٹے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الجہاد25 (2515)، (تحفة الأشراف: 11329)، موطا امام مالک/الحج 18 (43) (موقوفا) مسند احمد (5/234)، سنن الدارمی/الجہاد 25 (2461)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4200 (حسن)»
وضاحت
۱؎: یعنی اسے کچھ ثواب نہیں ملے گا، بلکہ ہو سکتا ہے الٹا اسے عذاب ہو۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن