مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، خَالِدًا يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّامِيّ ، شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّامِيّ يُحَدِّثُ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ فِيهِ نِسْيَانٌ وَلَا تَنَقُّصٌ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَبَلَغَ الْعَدُوَّ، أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ، كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً، كَانَ فِدَاءُ كُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ، عُضْوًا مِنْهُ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو۔ اور اس میں بھول چوک اور کمی و بیشی کا شائبہ تک نہ ہو۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا، دشمن کے قریب پہنچا، قطع نظر اس کے کہ تیر دشمن کو لگایا نشانہ خطا کر گیا، تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے ایک مسلمان غلام آزاد کیا تو غلام کا ہر عضو (آزاد کرنے والے کے) ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات کا فدیہ بن جائے گا، اور جو شخص اللہ کی راہ میں (لڑتے لڑتے) بوڑھا ہو گیا، تو یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10754)، مسند احمد (4/113) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح