بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں اونٹنی کا دودھ اتارنے کے لیے ایک بار چھاتی پکڑنے اور چھوڑنے کے درمیان کے وقفہ تک بھی لڑنے والے کا ثواب۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں اونٹنی کا دودھ اتارنے کے لیے ایک بار چھاتی پکڑنے اور چھوڑنے کے درمیان کے وقفہ تک بھی لڑنے والے کا ثواب۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3143 سنن نسائی
يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَجَّاجًّا ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، مَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ ، مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَجَّاجًّا، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُمْ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فَوَاقَ نَاقَةٍ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا، ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ، فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً، فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ، وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَعَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو (مسلمان) شخص اونٹنی دوہنے کے وقت مٹھی بند کرنے اور کھولنے کے درمیان کے وقفہ کے برابر بھی (یعنی ذرا سی دیر کے لیے) اللہ کے راستے میں جہاد کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ اور جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے اپنی شہادت کی دعا کرے، پھر وہ مر جائے یا قتل کر دیا جائے تو (دونوں ہی صورتوں میں) اسے شہید کا اجر ملے گا، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہو جائے یا کسی مصیبت میں مبتلا کر دیا جائے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے زخم کا رنگ (زخمی ہونے کے وقت) جیسا کچھ تھا، اس سے بھی زیادہ گہرا و نمایاں ہو گا، رنگ زعفران کی طرح اور (اس کا زخم بدنما و بدبودار نہ ہو گا بلکہ اس کی) خوشبو مشک کی ہو گی، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اس پر شہداء کی مہر ہو گی ۱؎۔ ۱؎: یعنی اس کا شمار شہیدوں میں ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الجہاد 42 (2541)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 19 (1654) مختصرا، 21 (1656)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 15 (2792)، (تحفة الأشراف: 11359)، مسند احمد (5/230، 235، 244)، سنن الدارمی/الجہاد 5 (2439) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح