بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جمرہ عقبہ کی رمی کے لیے کنکریوں کی تعداد کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: جمرہ عقبہ کی رمی کے لیے کنکریوں کی تعداد کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3078 سنن نسائی
إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا، حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو جعفر محمد بن علی بن حسین باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ کے پاس گئے تو میں نے ان سے کہا: آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حج کا حال بتائیے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس جمرہ کو جو درخت کے قریب ہے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، کنکریاں اتنی چھوٹی تھیں جو چٹکی میں آ سکیں۔ آپ نے وادی کے اندر سے رمی کی، پھر آپ منحر (قربان گاہ) کی طرف پلٹے اور قربانی کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3078]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3056 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3079 سنن نسائی
يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٌ ، سَعْدٌ
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: قَالَ مُجَاهِدٌ، قَالَ سَعْدٌ:" رَجَعْنَا فِي الْحَجَّةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعْضُنَا يَقُولُ: رَمَيْتُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، وَبَعْضُنَا يَقُولُ: رَمَيْتُ بِسِتٍّ، فَلَمْ يَعِبْ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج میں لوٹے۔ تو ہم میں سے کوئی کہتا تھا: ہم نے سات کنکریاں ماریں اور کوئی کہتا تھا: ہم نے چھ ماریں، تو ان میں سے کسی نے ایک دوسرے پر نکیر نہیں کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3079]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3917)، مسند احمد (1/168) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، لانقطاعه مجاهد لم يدرك سعد بن أبى وقاص رضى الله عنه انوار الصحيفه، صفحه نمبر 344
الحكم: صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 3080 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، خَالِدٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبَا مِجْلَزٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ , يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجِمَارِ؟ فَقَالَ:" مَا أَدْرِي رَمَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتٍّ أَوْ بِسَبْعٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحج 78 (1977)، (تحفة الأشراف: 6541)، مسند احمد (1/372) (صحیح) (حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن اگلی حدیث میں سات کنکریاں مارنے کا بیان ہے، اس لیے اس میں موجود شک چھ یا سات کنکری کی بات غریب اور خود ابن عباس اور دوسروں کی احادیث کے خلاف ہے)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح