بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: چرواہوں کی رمی کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: چرواہوں کی رمی کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3070 سنن نسائی
الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلرُّعَاةِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا، وَيَدَعُوا يَوْمًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالبداح بن عاصم کے والد عاصم بن عدی بن جدا القضاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چرواہوں کو ایک دن چھوڑ کر ایک دن رمی کرنے کی رخصت دی ہے، (اس لیے کہ وہ اونٹوں کو ادھر ادھر چرانے لے جانے کی وجہ سے ہر روز منیٰ نہیں پہنچ سکتے تھے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3070]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحج 78 (1975)، سنن الترمذی/الحج 108 (955)، سنن ابن ماجہ/الحج 67 (3037)، (تحفة الأشراف: 5030)، موطا امام مالک/الحج 72 (218)، مسند احمد (5/450)، سنن الدارمی/المناسک 58 (1938) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3071 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، مَالِكٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلرُّعَاةِ فِي الْبَيْتُوتَةِ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ، وَالْيَوْمَيْنِ اللَّذَيْنِ بَعْدَهُ يَجْمَعُونَهُمَا فِي أَحَدِهِمَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالبداح بن عاصم کے والد عاصم بن عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چرواہوں کو منیٰ میں رات میں نہ رہنے کی رخصت دی ہے۔ وہ یوم النحر (یعنی دسویں تاریخ) کو رمی کریں، اور پھر اس کے بعد دونوں دنوں کو کسی ایک دن میں جمع کر لیں)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3071]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظرما قبلہ (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی گیارہویں اور بارہویں دونوں کی رمی گیارہویں تاریخ کو کر لیں یا بارہویں تاریخ کو کریں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح