مُحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
أَخْبَرَنَا مُحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ الشِّعْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ، فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" الصَّلَاةُ أَمَامَكَ" , فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، لَمْ يَحُلَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى صَلَّى.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس گھاٹی میں اترے جہاں امراء اترتے ہیں، تو آپ نے پیشاب کیا، پھر ہلکا وضو کیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کا ارادہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نماز آگے ہو گی“ (یعنی آگے چل کر پڑھیں گے) تو جب ہم مزدلفہ آئے، تو ابھی (قافلے کے) پیچھے والے لوگ اترے بھی نہ تھے کہ آپ نے نماز شروع کر دی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3028]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3027 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح