مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، سُوَيْدٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ، فَلْيَحْلِلْ، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَهْدَى، فَلَا يَحِلَّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةِ، فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو ہم میں سے بعض نے حج کا احرام باندھا اور بعض نے عمرہ کا، اور ساتھ ہدی بھی لائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عمرہ کا تلبیہ پکارا اور ہدی ساتھ نہیں لایا ہے، تو وہ احرام کھول ڈالے، اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے، اور ساتھ ہدی لے کر آیا ہے تو وہ احرام نہ کھولے، اور جس نے حج کا تلبیہ پکارا ہے تو وہ اپنا حج پورا کرے“، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں ان لوگوں میں سے تھی جن ہوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2994]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16749)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 34 (1562)، والمغازی77 (4395)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/الحج 23 (1778)، مسند احمد (6/37، 119) (صحیح) (لیست عندصحیح البخاری/وکنت ممن أہل بالعمرة)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح