بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عمرہ کرنے والا بال کہاں کتروائے؟
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: عمرہ کرنے والا بال کہاں کتروائے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2990 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، طَاوُسًا ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، مُعَاوِيَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ," أَنَّهُ قَصَّرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ فِي عُمْرَةٍ عَلَى الْمَرْوَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مروہ پر ایک عمرہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال تیر کے لمبے پھل سے کترے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 2738 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2991 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مُعَاوِيَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ:" قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصِ أَعْرَابِيٍّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال ایک اعرابی کے تیر کے پھل سے کترے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2991]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 2738 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ عمرہ جعرانہ کا واقعہ ہے کیونکہ معاویہ رضی الله عنہ اسی موقع پر اسلام لائے تھے عمرہ قضاء کا واقعہ نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اس وقت کافر تھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح