مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، سُفْيَانُ ، صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنَ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَأَلُوا ابْنَ عُمَرَ هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ فَقَالَ:" كَانَ فِي جَمَاعَةٍ مِنَ النَّاسِ، فَرَمَلُوا فَلَا أُرَاهُمْ رَمَلُوا إِلَّا بِرَمَلِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زہری کہتے ہیں کہ لوگوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو صفا و مروہ کے درمیان رمل کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کی ایک جماعت کے درمیان تھے (میں خود تو آپ کو دیکھ نہ سکا) لیکن لوگوں نے رمل کیا تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ کے رمل کرنے کی وجہ سے ہی لوگوں نے رمل کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2981]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7446) (ضعیف الإسناد) (زہری کا عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے سماع ثابت نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، الزهري لم يسمع من ابن عمر رضي الله عنهما فالسند منقطع. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 343
الحكم: ضعيف الإسناد