بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: طواف میں دوسرے دونوں رکنوں کے نہ چھونے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: طواف میں دوسرے دونوں رکنوں کے نہ چھونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 2953 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، وَمَالِكٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، لِابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وَمَالِكٍ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ:" رَأَيْتُكَ لَا تَسْتَلِمُ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ" , قَالَ:" لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ" , مُخْتَصَرٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبید بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے آپ کو کعبہ کے چاروں ارکان میں سے صرف انہیں دونوں یمانی (رکن یمانی اور حجر اسود) کا استلام کرتے دیکھا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان دونوں رکنوں کے علاوہ کسی اور رکن کا استلام کرتے نہیں دیکھا، یہ حدیث مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر الأرقام 117، 2761 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2954 سنن نسائی
أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، ابْنِ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع , عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت اللہ کے ارکان میں سے کسی کا استلام نہیں کرتے تھے سوائے حجر اسود اور اس رکن کے جو جمحی لوگوں کے گھروں کی طرف حجر اسود سے قریب ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2954]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج 40 (1267)، سنن ابن ماجہ/المناسک 27 (2946)، (تحفة الأشراف: 6988) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2955 سنن نسائی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا الْيَمَانِيَ، وَالْحَجَرَ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، میں نے ان دونوں رکنوں کا استلام نہیں چھوڑا، نہ سختی میں اور نہ آسانی میں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2955]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 57 (1606)، صحیح مسلم/الحج40 (1268)، (تحفة الأشراف: 8152)، مسند احمد (2/40)، سنن الدارمی/المناسک 25 (1880) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2956 سنن نسائی
عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ الْحَجَرِ فِي رَخَاءٍ، وَلَا شِدَّةٍ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، آسانی اور پریشانی کسی حال میں بھی اس کا استلام نہیں چھوڑا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2956]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7596)، مسند احمد (2/33، 40، 59) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح