أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبُو نُعَيْمٍ ، سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُجَاهِدًا ، ابْنُ عُمَرَ ، بِلَالًا
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا , يَقُولُ: أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ فِي مَنْزِلِهِ فَقِيلَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، فَأَقْبَلْتُ، فَأَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ، وَأَجِدُ بِلَالًا عَلَى الْبَاب: قَائِمًا، فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ ," أَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَيْنَ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مجاہد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے گھر آ کر ان سے کہا گیا کہ (دیکھئیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (ابھی ابھی) کعبہ کے اندر گئے ہیں۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں) تو میں آیا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکل چکے ہیں، اور بلال رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا: بلال! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے پوچھا: کہاں؟ انہوں نے کہا: ان دونوں ستونوں کے درمیان دو رکعتیں آپ نے پڑھیں۔ پھر آپ وہاں سے نکلے، اور کعبہ رخ ہو کر دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 693 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح