بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مکہ میں بغیر احرام باندھے داخل ہونے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: مکہ میں بغیر احرام باندھے داخل ہونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2870 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ، فَقِيلَ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (فتح مکہ کے موقع پر) خود پہنے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے، تو آپ سے کہا گیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/جزاء الصید 18 (1846)، الجہاد 169 (3044)، المغازی 48 (4286)، اللباس 17 (5808)، صحیح مسلم/الحج 84 (1357)، سنن ابی داود/الجہاد 127 (2685)، سنن الترمذی/الجہاد 18 (1693)، والشمائل 16 (106)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 18 (1805)، (تحفة الأشراف: 1527)، موطا امام مالک/الحج 81 (247)، مسند احمد (3/109، 164، 180، 186، 224، 231، 232، 240)، سنن الدارمی/ المناسک 88 (1981)، والسیر 20 (2500) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہت اذیت پہنچایا کرتا تھا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2871 سنن نسائی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، سُفْيَانُ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کے سر پر خود تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2872 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی، اور آپ بغیر احرام کے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج84 (1358)، (تحفة الأشراف: 2947)، مسند احمد (3/387)، ویأتی عند المؤلف فی الزینة 109، برقم 5346 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: دونوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ عمامہ خود کے اوپر رہا ہو، یا خود عمامہ کے اوپر رہا ہو یا داخل ہوتے وقت سر پر خود رہا ہو پھر آپ نے اسے ہٹا کر پگڑی باندھ لی ہو، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح