الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنٍ ، ابْنِ عَوْنٍ ، الْقَاسِمِ ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ:" أَنَا فَتَلْتُ تِلْكَ الْقَلَائِدَ مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا، ثُمَّ أَصْبَحَ فِينَا، فَيَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ مِنْ أَهْلِهِ، وَمَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین (عائشہ رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے ان ہاروں (قلادوں) کو اس رنگین اون سے بٹا جو ہمارے پاس تھے پھر ہم میں موجود رہ کر آپ نے صبح کی اور وہ سب کام کرتے رہے جو غیر محرم اپنی بیوی سے کرتا ہے اور جو عام آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2782]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 112 (1705)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن الدارمی/المناسک 17 (1759)، (تحفة الأشراف: 17466) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح