هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو دَاوُدَ ، حَبِيبٌ ، عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعِكْرِمَةُ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِكْرِمَةُ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ أَرَادَتِ الْحَجَّ،" فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَشْتَرِطَ، فَفَعَلَتْ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ رضی اللہ عنہ نے حج کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ شرط کر لیں ۱؎ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے ایسا ہی کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2766]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج15 (1208)، (تحفة الأشراف: 5595) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی تلبیہ پکارے وقت اس بات کی شرط کر لیں کہ اگر میں کسی وجہ سے مکہ تک نہیں پہنچ سکی تو جہاں تک پہنچ سکوں گی وہیں احرام کھول ڈالوں گی۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح