بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نفاس والی عورت کے تلبیہ پکارنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: نفاس والی عورت کے تلبیہ پکارنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2762 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، شُعَيْبٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ الْهَادِ ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ، فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ يَقْدِرُ أَنْ يَأْتِيَ رَاكِبًا أَوْ رَاجِلًا إِلَّا قَدِمَ، فَتَدَارَكَ النَّاسُ لِيَخْرُجُوا مَعَهُ، حَتَّى جَاءَ ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ، ثُمَّ أَهِلِّي" , فَفَعَلَتْ مُخْتَصَرٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نو برس تک مدینہ میں رہے، اور حج نہیں کر سکے، پھر (دسویں سال) آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا تو کوئی بھی جو سواری سے یا پیدل آ سکتا تھا ایسا بچا ہو جو نہ آیا ہو، لوگ آپ کے ساتھ حج کو جانے کے لیے آتے گئے یہاں تک کہ آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر کو جنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اطلاع بھیجی کہ وہ کیا کریں۔ تو آپ نے فرمایا: تم غسل کر لو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، پھر لبیک پکارو، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ یہ حدیث ایک بڑی حدیث کا اختصار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 215 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2763 سنن نسائی
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: نَفَسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ كَيْفَ تَفْعَلُ؟" فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتَسْتَثْفِرَ بِثَوْبِهَا وَتُهِلَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ تو آپ نے انہیں غسل کرنے، کپڑے کا لنگوٹ باندھنے، اور تلبیہ پکارنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 215 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح