زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِشَيْءٍ سَأَلَ عَنْهُ أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ، فَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ لَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ بَسَطَ يَدَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بہز بن حکیم کے دادا (معاویہ بن حیدہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس (کھانے کی) کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے: ”یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟“ اگر کہا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو آپ نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا یہ ہدیہ ہے تو آپ (کھانے کے لیے) اپنا ہاتھ بڑھاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الزکاة25 (656)، (تحفة الأشراف: 11386)، مسند احمد (5/5) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن صحيح