بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: لوگوں کے بھانجے کا شمار بھی انہیں ہی میں ہوتا ہے۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل باب: لوگوں کے بھانجے کا شمار بھی انہیں ہی میں ہوتا ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2611 سنن نسائی
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، لِأَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، أَسَمِعْتَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ"؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوایاس معاویہ بن قرہ سے پوچھا: کیا آپ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے، انہوں نے کہا: جی ہاں (میں نے سنا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1598)، مسند احمد (3/119، 171، 222، 231، سنن الدارمی/السیر 82 (2569) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2612 سنن نسائی
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المناقب14 (3516)، الفرائض24 (6761)، صحیح مسلم/الزکاة46 (1059) مطولا، سنن الترمذی/المناقب 66 (3901) (تحفة الأشراف: 1244)، مسند احمد (3/172، 173، 180، 222، 275، 276، 277) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح