بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: تھوڑے صدقے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل باب: تھوڑے صدقے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2553 سنن نسائی
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، خَالِدٍ ، شُعْبَةُ ، الْمُحِلِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُحِلِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا اللہ کی راہ میں دے کر سہی۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الزکاة 9 (1413) مطولا، المناقب 25 (3595) مطولا، (تحفة الأشراف: 9874)، مسند احمد (4/256) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2554 سنن نسائی
إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ ، خَيْثَمَةَ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّارَ فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ، وَتَعَوَّذَ مِنْهَا ذَكَرَ شُعْبَةُ: أَنَّهُ فَعَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ التَّمْرَةِ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا، اور نفرت سے اپنا منہ پھیر لیا، اور اس سے پناہ مانگی۔ شعبہ نے ذکر کیا کہ آپ نے تین دفعہ ایسا کیا، پھر فرمایا: آگ سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی اللہ کی راہ میں دے کر سہی۔ اور اگر اسے نہ پاس کو تو بھلی بات کے ذریعہ معذرت کر کے سہی۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأدب 34 (6023)، الرقاق 51 (6563)، صحیح مسلم/الزکاة 20 (1016)، (تحفة الأشراف: 9853) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح