بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مالداری اور دل کی بے نیازی کے ساتھ صدقہ دینے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل باب: مالداری اور دل کی بے نیازی کے ساتھ صدقہ دینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2535 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، بَكْرٌ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بہتر صدقہ وہ ہے جو مالداری کی برقراری اور دل کی بے نیازی کے ساتھ ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے۔ اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی کفالت و نگرانی تمہارے ذمہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14144)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 18 (1426)، النفقات 2 (5355)، صحیح مسلم/الزکاة 35 (1042) (بحذف وزیادة)، سنن الترمذی/الزکاة 38 (680) (مثل مسلم)، مسند احمد (2/230، 243، 278، 288، 319، 362، 394، 434، 475، 476، 480، 501، 524) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: ایسا نہ ہو کہ سارا مال صدقہ کر دے اور خود محتاج ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن صحيح