هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَكِيعٍ ، دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي سَعِيدٍ
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:" كُنَّا نُخْرِجُ صَدَقَةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، فَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ، حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ مِنَ الشَّامِ وَكَانَ فِيمَا عَلَّمَ النَّاسَ أَنَّهُ قَالَ: مَا أَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ إِلَّا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ هَذَا , قَالَ: فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ہم میں تھے تو ہم صدقہ فطر گی ہوں سے، کھجور سے، یا جو سے، یا پنیر سے ایک صاع نکالتے تھے، اور ہم برابر اسی طرح نکالتے رہے۔ یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ شام سے آئے، اور انہوں نے جو باتیں لوگوں کو بتائیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ شامی گی ہوں کے دو مد (مدینہ کے) ایک صاع کے برابر ہیں، تو لوگوں نے اسی کو اختیار کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 2513 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: سكت عنه الشيخ