بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: شہد کی مکھی کی زکاۃ کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل باب: شہد کی مکھی کی زکاۃ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2501 سنن نسائی
الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ ، مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ هِلَالٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ وَسَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ لَهُ وَادِيًا , يُقَالُ لَهُ سَلَبَةُ، فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْوَادِيَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَسْأَلُهُ فَكَتَبَ عُمَرُ:" إِنْ أَدَّى إِلَيِّكَ مَا كَانَ يُؤَدِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُشْرِ نَحْلِهِ، فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ ذَلِكَ، وَإِلَّا فَإِنَّمَا هُوَ ذُبَاب غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ شَاءَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنے شہد کا دسواں حصہ لے کر آئے، اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اس وادی کو جسے سلبہ کہا جاتا ہے ان کے لیے خاص کر دیں (اس پر کسی اور کا دعویٰ نہ رہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ مذکورہ وادی ان کے لیے مخصوص فرما دی۔ پھر جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو سفیان بن وھب نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے (کہ یہ وادی ہلال رضی اللہ عنہ کے پاس رہنے دی جائے یا نہیں) تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواب لکھا: اگر وہ اپنے شہد کا دسواں حصہ جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیتے تھے ہمیں دیتے ہیں تو سلبہ کو انہیں کے پاس رہنے دیں، ورنہ وہ برسات کی مکھیاں ہیں (پھول و پودوں کا رس چوس کر شہد بناتی ہیں) جو چاہے اسے کھائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2501]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الزکاة12 (1600)، (تحفة الأشراف: 8767) (حسن)»
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن