عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانُ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، وَمَالِكٍ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى. ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ , وَمَالِكٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الزکاة4 (1404)، 32 (1447)، صحیح مسلم/الزکاة1 (979)، سنن ابی داود/الزکاة 1 (1558)، سنن الترمذی/الزکاة 7 (627)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 6 (1793)، (تحفة الأشراف: 4402)، موطا امام مالک/الزکاة1 (1)، مسند احمد 3/6، 44، 45، 59، 60، 73، 86، 74، 79، سنن الدارمی/الزکاة11 (1673، 1674)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2475، 2477، 2478، 2486، 2487، 2489 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور پانچ وسق تقریباً ساڑھے سات کوئنٹل بنتا ہے۔ ۲؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس طرح پانچ اوقیہ دو سو درہم کا ہوا، اور دو سو درہم موجودہ وزن کے اعتبار سے ۸۵ گرام بنتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح