بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مہینہ میں دو دن روزہ رکھنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل باب: مہینہ میں دو دن روزہ رکھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2435 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، سَيْفُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ مِنْ خِيَارِ الْخَلْقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ , فَقَالَ:" صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي زِدْنِي , قَالَ:" تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي زِدْنِي، يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي زِدْنِي، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَقَالَ:" زِدْنِي زِدْنِي أَجِدُنِي قَوِيًّا"، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيَرُدُّنِي. قَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روزے رکھنے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: تم کہتے ہو: اللہ کے رسول! کچھ بڑھا دیجئیے، کچھ بڑھا دیجئیے، تو ہر مہینے دو دن رکھ لیا کرو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، اس پر آپ نے میری بات کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں دہرائی پھر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ اب آپ مجھے لوٹا دیں گے، پھر آپ نے فرمایا: ہر مہینے تین دن رکھ لیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2071)، مسند احمد 4/347، 5/67 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 2436 سنن نسائی
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ , عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ , فَقَالَ:" صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَاسْتَزَادَهُ" , قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَزَادَهُ , قَالَ:" صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا"، فَمَا كَادَ أَنْ يَزِيدَهُ فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روزے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو، انہوں نے مزید کی درخواست کی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو آپ نے اس میں اضافہ فرما دیا، فرمایا: ہر مہینہ دو دن رکھ لیا کرو، تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (میری بات) میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں دہرائی، آپ اضافہ کرنے والے نہ تھے، مگر جب انہوں نے اصرار کیا تو آپ نے فرمایا: ہر مہینہ تین دن رکھ لیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد