بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کے سلسلہ میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں ابوعثمان نہدی پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل باب: ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کے سلسلہ میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں ابوعثمان نہدی پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 2410 سنن نسائی
زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" شَهْرُ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوعثمان سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: صبر کے مہینے کے، اور ہر مہینے سے تین دن کے روزے صوم الدهر ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13621)، مسند احمد 2/263، 384، 513 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: صبر کے مہینہ سے مراد رمضان کا مہینہ ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2411 سنن نسائی
عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ اللَّانِيُّ ، عَبْدِ الرَّحِيمِ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي ذَرٍّ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ اللَّانِيُّ بِالْكُوفَةِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ"، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مہینے کے تین دن روزہ رکھے تو گویا اس نے صوم الدهر رکھے، پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سچ فرمایا ہے: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» جو کوئی ایک نیکی لائے گا اسے دس گنا ثواب ملے گا (الانعام: ۱۶۰)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الصوم54 (762)، سنن ابن ماجہ/الصوم29 (1708)، (تحفة الأشراف: 11967)، مسند احمد 5/145 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، ضعيف، ترمذي (762) ابن ماجه (1708) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2412 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حِبَّانُ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عَاصِمٍ ، أَبِي عُثْمَانَ ، رَجُلٍ ، أَبُو ذَرٍّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، فَقَدْ تَمَّ صَوْمُ الشَّهْرِ، أَوْ فَلَهُ صَوْمُ الشَّهْرِ" , شَكَّ عَاصِمٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوعثمان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے ہر مہینے میں تین روزہ رکھے تو اس نے (گویا) پورے مہینے کے روزہ رکھے، یا یہ (فرمایا): اس کے لیے پورے مہینے کے روزہ کا ثواب ہے، عاصم راوی کو یہاں شک ہوا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، مگر ابو عثمان نہدی کا براہ راست سماع ابو ذر رضی الله عنہ سے ثابت ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، ضعيف، رجل: مجهول انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
الحكم: ضعيف الإسناد
حدیث نمبر: 2413 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، مُطَرِّفًا ، عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ مُطَرِّفًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" صِيَامٌ حَسَنٌ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر مہینے کے تین دن کے روزہ بہترین روزہ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9772)، مسند احمد 4/217 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2414 سنن نسائی
زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، أَبُو مُصْعَبٍ ، مُغِيرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ: نَحْوَهُ مُرْسَلٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے سعید بن ابی ہند نے روایت کی ہے کہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کہا ہے، اور یہ مرسل ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف وانظر ما قبلہ (ضعیف) (مؤلف نے اسے مرسل کہا ہے، مرسل ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے مگر پچھلی روایت مرفوع متصل ہے)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 2415 سنن نسائی
يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَجَّاجٌ ، شَرِيكٍ ، الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ ، ابْنَ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6685)، مسند احمد 2/90 (صحیح) (سند میں حجاج بن ارطاة اور شریک قاضی ضعیف ہیں، لیکن آنے والی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح