بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل باب: دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2387 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي عَمَّارٍ ، عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، رَجُلٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَجُلٌ يَصُومُ الدَّهْرَ , قَالَ:" وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ"، قَالُوا: فَثُلُثَيْهِ، قَالَ:" أَكْثَرَ"، قَالُوا: فَنِصْفَهُ، قَالَ:" أَكْثَرَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمرو بن شرجبیل ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا گیا: ایک آدمی ہے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ وہ کبھی کھاتا ہی نہیں ۱؎، لوگوں نے عرض کیا: دو تہائی ایام رکھے تو؟ ۲؎ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی زیادہ ہے، لوگوں نے عرض کیا: اور آدھا رکھے تو؟ ۳؎ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی زیادہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اتنے روزوں نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دیں، یہ ہر مہینے کے تین دن کے روزے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2387]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15652) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی نہ دن میں نہ رات میں یہاں تک کہ بھوک سے مر جائے، اس سے مقصود اس کے اس عمل پر اپنی ناگواری کا اظہار ہے اور یہ بتانا ہے کہ یہ ایک ایسا مذموم عمل ہے کہ اس کے لیے بھوک سے مر جانے کی تمنا کی جائے۔ ۲؎: یعنی دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟ ۳؎: یعنی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2388 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي عَمَّارٍ ، عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ شَيْئًا"، قَالَ: فَثُلُثَيْهِ، قَالَ:" أَكْثَرَ"، قَالَ: فَنِصْفَهُ، قَالَ:" أَكْثَرَ"، قَالَ:" أَفَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ"، قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو صیام الدھر رکھے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تو یہ چاہوں گا کہ کبھی کچھ کھائے ہی نہ، اس نے کہا: اس کا دو تہائی رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: زیادہ ہے، اس نے کہا: آدھے ایام رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: زیادہ ہے، پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دے، لوگوں نے کہا: جی ہاں (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا: یہ ہر مہینے میں تین دن کا روزہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، پچھلی روایت سے تقویت پاکر صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2389 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، حَمَّادٌ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، أَبِي قَتَادَةَ ، عُمَرُ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ قَالَ:" لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ، أَوْ لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ:" أَوَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ"، قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ:" ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام"، قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ:" وَدِدْتُ أَنِّي أُطِيقُ ذَلِكَ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ هَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو صیام الدھر رکھتا ہو؟ آپ نے فرمایا: اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ ہی افطار کیا۔ (راوی کو شک ہے «لاصيام ولا أفطر» کہا، یا «لم يصم ولم يفطر» کہا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا اس کی کوئی طاقت رکھتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: (اچھا) اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، انہوں نے کہا: اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ میں اس کی طاقت رکھوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا، اور رمضان کے روزے رکھنا یہی صیام الدھر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 2385 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح