بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آیت کریمہ: ”جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہوں (اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں“ کی تفسیر۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل باب: آیت کریمہ: ”جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہوں (اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں“ کی تفسیر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2318 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، بُكَيْرٍ ، يَزِيدَ ، سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 , كَانَ مَنْ أَرَادَ مِنَّا أَنْ يُفْطِرَ، وَيَفْتَدِيَ حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں (اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں (البقرہ: ۱۸۴) نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص چاہتا کہ وہ افطار کرے (کھائے پئے) اور فدیہ دیدے (تو وہ ایسا کر لیتا) یہاں کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اسے منسوخ کر دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/تفسیر البقرة 26 (4507)، صحیح مسلم/الصوم25 (1155)، سنن ابی داود/الصوم2 (2315)، سنن الترمذی/الصوم75 (798)، (تحفة الأشراف: 4534)، سنن الدارمی/الصوم29 (1775) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بعد والی آیت سے مراد سورۃ البقرہ کی یہ آیت ہے «فمن شہد منکم الشھر فلیصمہ» یعنی تم میں سے جو بھی آدمی رمضان کا مہینہ پائے وہ روزہ رکھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2319 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، يَزِيدُ ، وَرْقَاءُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 يُطِيقُونَهُ: يُكَلَّفُونَهُ , فِدْيَةٌ: طَعَامُ مِسْكِينٍ وَاحِدٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا سورة البقرة آية 184 طَعَامُ مِسْكِينٍ آخَرَ لَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ سورة البقرة آية 184 لَا يُرَخَّصُ فِي هَذَا إِلَّا لِلَّذِي لَا يُطِيقُ الصِّيَامَ، أَوْ مَرِيضٍ لَا يُشْفَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه» میں «‏‏‏‏يطيقونه» کی تفسیر میں کہتے ہیں معنی یہ ہے کہ جو لوگ روزہ رکھنے کے مکلف ہیں، (تو ہر روزہ کے بدلے) ان پر ایک مسکین کے (دونوں وقت کے) کھانے کا فدیہ ہے، (اور جو شخص ازراہ ثواب و نیکی و بھلائی) ایک سے زیادہ مسکین کو کھانا دے دیں تو یہ منسوخ نہیں ہے، (یہ اچھی بات ہے، اور زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ روزہ ہی رکھے جائیں) یہ رخصت صرف اس شخص کے لیے ہے جو روزہ کی طاقت نہ رکھتا ہو، یا بیمار ہو اور اچھا نہ ہو پا رہا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/تفسیرالبقرة25 (4505)، (تحفة الأشراف: 5945)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم3 (2318) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح