بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حدیث میں محمد بن عبدالرحمٰن پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل باب: حدیث میں محمد بن عبدالرحمٰن پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2259 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، بَكْرٌ ، عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نَاسًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى رَجُلٍ , فَسَأَلَ فَقَالُوا: رَجُلٌ أَجْهَدَهُ الصَّوْمُ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک شخص کو گھیرے ہوئے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: (کیا بات ہے؟ کیوں لوگ اکٹھا ہیں؟) تو لوگوں نے کہا: ایک شخص ہے جسے روزہ نے نڈھال کر دیا ہے، تو آپ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی و تقویٰ نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2590)، مسند احمد 3/352 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2260 سنن نسائی
شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ ، شُعَيْبٌ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ يُرَشُّ عَلَيْهِ الْمَاءُ , قَالَ:" مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ هَذَا؟" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَائِمٌ , قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ، وَعَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّتِي رَخَّصَ لَكُمْ فَاقْبَلُوهَا" ,
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک درخت کے سایہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اس پر پانی چھڑکا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تمہارے اس ساتھی کو کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ روزہ دار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ نیکی و تقویٰ نہیں ہے کہ تم سفر میں روزہ رکھو، اللہ نے جو رخصت تمہیں دی ہے اسے قبول کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2261 سنن نسائی
مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، الْفِرْيَابِيُّ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَنْ ، جَابِرًا
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا نَحْوَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یحییٰ کہتے ہیں مجھے محمد بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے جس شخص نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اسی طرح بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 2259 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح