بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سفر میں روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل باب: سفر میں روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2257 سنن نسائی
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
کعب بن عاصم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الصوم11 (1664)، مسند احمد 5/434، سنن الدارمی/الصوم15 (1751) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2258 سنن نسائی
إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ ابْنَ كَثِيرٍ عَلَيْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
(تابعی) سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے، صحیح روایت وہ ہے جو پہلے گزری ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس پر ابن محمد بن کثیر کی متابعت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، جس کی وضاحت خود مؤلف نے کر دی ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر اصل حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح لغيره