بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اس حدیث میں محمد بن ابراہیم پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل باب: اس حدیث میں محمد بن ابراہیم پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2178 سنن نسائی
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، النَّضْرُ ، شُعْبَةُ ، تَوْبَةَ الْعنبري ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعنبري , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2178]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصوم 11 (2336)، (تحفة الأشراف: 18238)، مسند احمد 6/311 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2179 سنن نسائی
الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ، وَكَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ أَوْ عَامَّةَ شَعْبَانَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روزوں کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (پے در پے اتنے) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے (اب) آپ روزہ رکھنا بند نہیں کریں گے، اور (پھر) اتنے دنوں تک بغیر روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے (اب) آپ روزے نہیں رکھیں گے، اور آپ (پورے) شعبان میں یا شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2179]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصوم 11 (2336)، (تحفة الأشراف: 18238)، مسند احمد 6/311 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 2180 سنن نسائی
أَحْمَدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَمِّي ، نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، ابْنَ الْهَادِ ، مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ الْهَادِ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ، فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَ حَتَّى يَدْخُلَ شَعْبَانُ، وَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي شَهْرٍ مَا يَصُومُ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: ہم (ازواج مطہرات) میں سے کوئی رمضان میں (حیض کی وجہ سے) روزہ نہیں رکھتی تو اس کی قضاء نہیں کر پاتی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے جتنا شعبان میں رکھتے تھے، آپ چند دن چھوڑ کر پورے ماہ روزے رکھتے، بلکہ (بسا اوقات) پورے (ہی) ماہ روزے رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2180]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصوم 26 (1146)، (تحفة الأشراف: 17741)، مسند احمد 6/89 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح