بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ستو اور کھجور سے سحری کھانے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل باب: ستو اور کھجور سے سحری کھانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2169 سنن نسائی
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ عِنْدَ السُّحُورِ:" يَا أَنَسُ! إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ أَطْعِمْنِي شَيْئًا"، فَأَتَيْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلَالٌ، فَقَالَ:" يَا أَنَسُ! انْظُرْ رَجُلًا يَأْكُلْ مَعِي"، فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَجَاءَ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ، وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ"، فَتَسَحَّرَ مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سحری کے وقت فرمایا: اے انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کچھ کھلاؤ، تو میں کچھ کھجور اور ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، اور یہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دینے کے بعد کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے انس! کسی اور شخص کو تلاش کرو جو میرے ساتھ (سحری) کھائے، تو میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا، چنانچہ وہ آئے (اور) کہنے لگے: میں نے ستو کا ایک گھونٹ پی لیا ہے، اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں (بھی) روزہ رکھنا چاہتا ہوں، (پھر) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ اٹھے، اور (فجر کی) دو رکعت (سنت) پڑھی، پھر آپ فرض نماز کے لیے نکل گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2169]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1348)، مسند احمد 3/197 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة مدلس وعنعن. وحديث البخاري (1134) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
الحكم: صحيح الإسناد