بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: شہید کہاں دفن کیا جائے؟
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: شہید کہاں دفن کیا جائے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2005 سنن نسائی
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٌ ، سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَيَّةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ رَجُلٍ , يُقَالُ لَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَيَّةَ، قال: أُصِيبَ رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الطَّائِفِ فَحُمِلَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَمَرَ أَنْ يُدْفَنَا حَيْثُ أُصِيبَا" , وَكَانَ ابْنُ مُعَيَّةَ وُلِدَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبیداللہ بن معیہ نامی ایک شخص کہتے ہیں کہ غزوہ طائف کے دن دو مسلمان مارے گئے، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اٹھا کر لائے گئے، تو آپ نے انہیں (اسی جگہ) دفنانے کا حکم دیا جہاں وہ مارے گئے تھے۔ اس حدیث کے راوی ابن معیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9741) (ضعیف الإسناد) (ابن معیّة تابعی ہیں اس لیے یہ روایت مرسل ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: ضعيف الإسناد
حدیث نمبر: 2006 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، سُفْيَانُ ، الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَصَارِعِهِمْ" , وَكَانُوا قَدْ نُقِلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ احد کے مقتولین کے بارے حکم دیا کہ انہیں ان کے پچھاڑے جانے کی جگ ہوں پر لوٹا دیا جائے، حالانکہ وہ مدینہ لے آئے گئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الجنائز 42 (3165)، سنن الترمذی/الجھاد 37 (1717)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 28 (1516)، (تحفة الأشراف: 3117)، مسند احمد 3/297، 303، 308، 397، سنن الدارمی/المقدمة 7 (46) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2007 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ادْفِنُوا الْقَتْلَى فِي مَصَارِعِهِمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مقتولین کو ان کے گرنے کی جگ ہوں میں دفن کرو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی وہ مارے گئے ہیں اور جس جگہ ان کی لاش گری تھی وہیں دفن کرو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح