بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2001 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، يَحْيَى ، وَاقِدٍ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ وَاقِدٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ الْقِيَامُ عَلَى الْجَنَازَةِ حَتَّى تُوضَعَ , فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ:" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (پہلے) کھڑے رہتے تھے پھر بیٹھنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الجنائز 25 (962)، سنن ابی داود/الجنائز 47 (3175)، سنن الترمذی/الجنائز 52 (1044)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 35 (1544)، (تحفة الأشراف: 10276)، موطا امام مالک/الجنائز 11 (33)، حصحیح مسلم/82، 83، 131، 138 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2002 سنن نسائی
إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا وَرَأَيْنَاهُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑے دیکھا آپ کھڑے ہوئے تو ہم (بھی) کھڑے ہوئے، اور بیٹھتے دیکھا تو ہم (بھی) بیٹھنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2003 سنن نسائی
هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، زَاذَانَ ، الْبَرَاءِ
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمْ يُلْحَدْ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو وہ تیار نہیں ہوئی تھی، چنانچہ آپ بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، گویا ہمارے سر پر پرندے بیٹھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2003]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الجنائز 68 (3211، 3212)، والسنة 27 (4753، 4754)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 37 (1548)، (تحفة الأشراف: 1758)، مسند احمد 4/287، 288، 297، 295 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح