بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: میت کے غسل کے پانی میں کافور ملانے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: میت کے غسل کے پانی میں کافور ملانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1891 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ ، أُمِّ عَطِيَّةَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ , فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" , قَالَ: أَوْ قَالَتْ حَفْصَةُ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا , قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ,
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، آپ نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر (کے پتوں) سے تین بار، یا پانچ بار، غسل دو، یا اس سے زیادہ، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی مقدار ملا لو (اور) جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرو، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ کو خبر کی، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو، راوی کہتے ہیں یا حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں: اسے تین، پانچ، یا سات بار غسل دو، راوی کہتے ہیں: ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1892 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، سُفْيَانُ ، أَيُّوبُ ، مُحَمَّدٍ ، حَفْصَةُ ، أُمِّ عَطِيَّةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ" ,
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1892]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الجنائز 15 (939)، سنن ابی داود/الجنائز 33 (3143)، (تحفة الأشراف: 18133)، مسند احمد 6/407 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1893 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، حَفْصَةُ ، أُمِّ عَطِيَّةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَالَتْ حَفْصَةُ , عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ" وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 1884 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح