هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَفْصٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَأَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ، قال:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ أَوْ يُجَصَّصَ زَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَوْ يُكْتَبَ عَلَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ قبر پر قبہ بنایا جائے یا اس کو اونچا کیا جائے، یا اس کو پختہ بنایا جائے، سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ”یا اس پر لکھا جائے“ کا اضافہ ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2029]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الجنائز 32 (970)، سنن ابی داود/الجنائز 76 (3225)، سنن الترمذی/الجنائز 58 (1052)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 43 (1562، 1563)، (تحفة الأشراف: 2274، 2796)، مسند احمد 3/295، 332، 399 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ نہی مطلق ہے، اس میں میت کا نام اور اس کی تاریخ وفات تبرک کے لیے قرآن کی آیتیں، اور اسماء حسنٰی وغیرہ لکھنا سبھی داخل ہیں اور یہ سب کچھ منع ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح