بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ستاروں کی گردش پر پانی برسنے کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: بارش طلب کرنے کے احکام و مسائل باب: ستاروں کی گردش پر پانی برسنے کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1525 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: الْكَوْكَبُ وَبِالْكَوْكَبِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب بھی میں نے اپنے بندوں کو بارش کی نعمت سے نوازا تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ لوگ کہتے رہے: فلاں ستارے نے ایسا کیا ہے، اور فلاں ستارے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإیمان 32 (72)، (تحفة الأشراف: 14113)، مسند احمد 2/362، 368، 421 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: حالانکہ ستاروں میں کوئی طاقت نہیں، وہ تو جماد ہیں، یہ نعمت تو اس ذات باری تعالیٰ نے دی ہے جس نے ستاروں، ساری مخلوقات کو پیدا کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1526 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، سُفْيَانُ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَلَمْ تَسْمَعُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمُ اللَّيْلَةَ , قَالَ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَأَمَّا مَنْ آمَنَ بِي وَحَمِدَنِي عَلَى سُقْيَايَ فَذَاكَ الَّذِي آمَنَ بِي وَكَفَرَ بِالْكَوْكَبِ، وَمَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَاكَ الَّذِي كَفَرَ بِي وَآمَنَ بِالْكَوْكَبِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے سنا نہیں کہ تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا؟ اس نے فرمایا: میں نے جب بھی بارش کی نعمت اپنے بندوں پر کی تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ کہتا رہا: فلاں و فلاں نچھتر کے سبب ہم پر بارش ہوئی، تو رہا وہ شخص جو مجھ پر ایمان لایا، اور میرے بارش برسانے پر اس نے میری تعریف کی، تو یہ وہی شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا، اور ستاروں کا انکار کیا، اور جس نے کہا: ہم فلاں فلاں نچھتر کے سبب بارش دیئے گئے، تو یہ وہ شخص ہے جس نے میرے ساتھ کفر کیا، اور ستاروں پر ایمان رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1526]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 156 (846)، الاستسقاء 28 (1038)، المغازي 35 (4147)، التوحید 35 (7503)، صحیح مسلم/الإیمان 32 (71)، سنن ابی داود/الطب 22 (3906)، (تحفة الأشراف: 3757)، موطا امام مالک/الاستسقاء 3 (4)، مسند احمد 4/115، 116، 117 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1527 سنن نسائی
عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، سُفْيَانَ ، عَمْرٍو ، عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطَرَ عَنْ عِبَادِهِ خَمْسَ سِنِينَ ثُمَّ أَرْسَلَهُ , لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ كَافِرِينَ , يَقُولُونَ: سُقِينَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے پانچ سال تک بارش روکے رکھے، پھر اسے چھوڑے تو بھی لوگوں میں سے ایک گروہ کافر ہی رہے گا، کہے گا: ہم تو مجدح ستارے کے سبب برسائے گئے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4148)، مسند احمد 3/7، سنن الدارمی/الرقاق 49 (2804) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عتاب‘‘ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت
۱؎: مجدح ستارے ان ستاروں میں سے ایک ستارے کا نام ہے جو عربوں کے نزدیک بارش پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے بارش بند ہونے کی دعا کرے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، عتاب: مجهول الحال (التحرير: 4420) لم يوثقه غير ابن حبان،وقال سفيان بن عينة أحد رواته:’’لا أدري من عتاب‘‘؟ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 333
الحكم: ضعيف